سلطان پور،3؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈروں کی لسٹ میں شمار پارٹی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ ورون گاندھی نے خود کو اشتعال انگیز اور متنازعہ بیان سے کچھ وقت سے الگ کر رکھا تھا۔ادھر پھر پچھلے کچھ عرصے سے ان کے سر کچھ بدلے-بدلے سے نظر آ رہے ہیں۔جمعرات کو متنازعہ بیان کے ساتھ ایم پی ورون گاندھی اچانک پھر سرخیوں میں آ گئے۔اپنے دورے پر ہفتہ کو ایم پی ورون گاندھی نے ایک کے بعد ایک کئی پلیٹ فارم سنبھالی، اس دوران ان کی زبان پھسلی اور انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے ممبر اسمبلی کو بھرے مجمع میں بندر کہہ ڈالا۔رہنما ورون گاندھی جمعرات کو دو روزہ دورے پر پارلیمانی حلقہ سلطان پور پہنچے تھے۔وہاں انہوں نے درجن بھر جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے براہ راست بات چیت کی۔اس دوران اسولی اسمبلی کی حسن پور گرام سبھا میں آئی عوام، اور شہزادے کو ورون گاندھی نے خطاب کیا۔اسولی اجتماع سے خطاب کے دوران جے سنگھ اسمبلی کے بی جے پی لیڈر چنو سنگھ بھی یہاں موجودتھے۔انہیں دیکھ کر ورون گاندھی نے کہا کہ چنو سنگھ سر ہلا رہے ہیں، انہیں تو اسمبلی میں ہوناتھا۔لیکن نہ جانے انہوں نے کسے’’بندر جتا کر‘‘بھیج دیا۔پھر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب چنو سنگھ کو پارلیمنٹ بھیجنا پڑے گا۔دراصل ممبر اسمبلی کو لے کر ورون گاندھی کا یہ غصہ اس لئے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ 2017کے اسمبلی میں پارٹی نے رہنما کے چہیتوں کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔جے سنگھ سے غالب دعویداروں میں رہنما نمائندے اریورما اور رہنما کے کافی قریبی مانیں جانیں والے سندیپ سنگھ بھی تھے۔بی جے پی نے آخری وقت میں کابینہ وزیر سوامی پرساد موریہ کے قریبی لوگوں میں شمار سیتارام ورما کو ٹکٹ دیا، اور وہ فاتح بھی ہوئے۔رہنما ورون گاندھی نے گرام سبھا حسن پور کے جس پلیٹ فارم سے جے سنگھ کے ممبر اسمبلی کو لے کر بیان دیا، اس دوران بی جے پی ضلع صدر جگدیش سنگھ چھنگو بھی وہاں موجودتھے۔حالانکہ پارٹی ممبر اسمبلی کے خلاف بیان بازی پر وہ خاموش رہے. انہوں نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی۔